اگر امام درود کے بعد بلا عذر دعا ماثورہ نہ پڑھے
سوال:
سوال: اگر امام درود کے بعد بلا عذر دعا ماثورہ نہ پڑھے اور سلام پھیر دے زید کہتا ہے کہ امام کو اسکے لیے مقتدی کی اجازت لینا ضروری ہے اگر مقتدی کے اجازت کے بغیر کیا تو ایسا کرنا امام کے لئے مکروہ تحریمی ہے؟
(١) کیا بلا عذر ایسا کرنا امام کے لئے مکروہ تحریمی ہے جب زیادہ مقتدی اس پر راضی نہ ہو؟
(٢) کیا بلا عذر ایسا کرنا امام کے لئے مکروہ تحریمی ہے جب زیادہ مقتدی اس پر راضی ہو؟
(٣) اگر تراویح میں جلدی کے لئے ایسا کرے اور زیادہ مقتدی اس پر راضی نہ ہو؟
(٤) اگر تراویح میں جلدی کے لئے ایسا کرے اور زیادہ مقتدی اس پر راضی ہو؟
(١) کیا بلا عذر ایسا کرنا امام کے لئے مکروہ تحریمی ہے جب زیادہ مقتدی اس پر راضی نہ ہو؟
(٢) کیا بلا عذر ایسا کرنا امام کے لئے مکروہ تحریمی ہے جب زیادہ مقتدی اس پر راضی ہو؟
(٣) اگر تراویح میں جلدی کے لئے ایسا کرے اور زیادہ مقتدی اس پر راضی نہ ہو؟
(٤) اگر تراویح میں جلدی کے لئے ایسا کرے اور زیادہ مقتدی اس پر راضی ہو؟
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 10541-1527/L=12/1446
جواب:
(1 تا 4) قعدہ اخیرہ میں درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ کا پڑھنا مسنون ہے؛ اس لیے امام کا بلاعذر اس کے ترک کی عادت بنا لینا صحیح نہیں۔ امام کو چاہیے کہ فرائض و تراویح میں بھی دعائے ماثورہ کے پڑھنے کا اہتمام کرے؛ تاہم اگر امام تراویح میں مقتدیوں کی عجلت و ناگواری کو محسوس کرے اور ان کی رعایت میں بسااوقات دعائے ماثوارہ پڑھنا ترک کردے تو اس کی گنجائش ہوگی، اور اس صورت میں بھی بہتر ہوگا کہ کم از کم کوئی مختصر دعا جیسے: اللہم اغفرلی وغیرہ پڑھ لے۔
وسننها رفع اليدين للتحريمة..... والدعاء. قوله (والدعاء) يعني بعد التشهد في القعدة الأخيرة لنفسه ولوالدي إن كانا مؤمنين... لقوله عليه الصلاة والسلام (إذا صلى أحدكم فليبدأ بالثناء على الله تعالى، ثم بالصلاة، ثم بالدعاء). (مجمع الأنهر: 1/134، ط: زكريا)
(ويأتي الإمام والقوم بالثناء في كل شفع، ويزيد) الإمام (على التشهد، إلا أن يمل القوم فيأتي بالصلوات) ويكتفي باللهم صلى على محمد لأنه الفرض عند الشافعي (ويترك الدعوات) (الدر المختار) وفيه رد المحتار: (قوله ويزيد الإمام إلخ) أي بأن يأتي بالدعوات بحر. [الدر المختار وحاشية بان عابدين (رد المحتار: 2/47]
(ويأتي الإمام والقوم بالثناء في كل شفع، ويزيد) الإمام (على التشهد، إلا أن يمل القوم فيأتي بالصلوات) ويكتفي باللهم صلى على محمد لأنه الفرض عند الشافعي (ويترك الدعوات) (الدر المختار) وفيه رد المحتار: (قوله ويزيد الإمام إلخ) أي بأن يأتي بالدعوات بحر. [الدر المختار وحاشية بان عابدين (رد المحتار: 2/47]
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر
637226
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند