کچھ سونا اور کچھ چاندی ہوتو سونے کی قیمت لگاکر چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا جائے گا
سوال:
مفتی صاحب، ایک عورت کے مہر میں 2 تولہ سونا ہے اس کے علاوہ اس کے شوہر نے اس کو تحفے میں تقریبا آدھا تولہ یا اس سے تھوڑا زیادہ چاندی کے زیورات دیئے مثلاً ایک انگھوٹی اور دو بالیاں، تو اس کی زکات کا کیا حکم ہے؟ بالیاں سے مراد کان میں پہنے والے زیور ہیں۔
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 10939-1420/SN=12/1446
جواب:
سونا – چاندی خواہ زیور کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں، اس پر زکات واجب ہے؛ البتہ اگر کچھ سونا اور کچھ چاندی ہوتو سونے کی قیمت لگاکر چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا جائے گا، اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے، موجودہ گرام کے حساب سے 612 گرام 360 ملی گرام کا ہوتا ہے، چوں کہ صورت مسئولہ میں عورت کے مہر میں دیا ہوا دو تولہ سونا اور تحفہ میں دی گئی چاندی کی قیمت اوپر ذکر کردہ مقدار نصاب تک پہنچ رہی ہے لہذا سال گزرنے کے بعد زکات واجب ہوگی۔
وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة (البحر الرائق، كتاب الزكاة، باب زكاة المال: 2/400، ط: دارالكتب العلمية بيروت)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر
637554
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند